واشنگٹن،14؍فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکی صدارتی مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلن نے استعفی دے دیا ہے کیونکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی روس پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے سے متعلق امریکہ میں تعینات روسی سفیر سے بات چیت شروع کردی تھی۔امریکی میڈیا میں یہ باتیں سامنے آئیں تھیں کہ وزارت انصاف نے وائٹ ہاؤس کو گذشتہ ماہ ہونے والے رابطوں کے متعلق متنبہ کیا تھا۔ان میں کہا گیا تھا کہ فلن روس کی بلیک میلنگ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔اس سے قبل وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ قومی سلامتی کے اپنے مشیر جنرل مائیکل فلن کے روسی سفیر سے رابطے کے بارے میں جاری تنازعے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جنرل مائیکل فلن اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بنے جب میڈیا میں ان کے بارے میں یہ اطلاعات آئیں کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل روسی سفیر کے ساتھ امریکی پابندیوں کے بارے میں بات کی۔امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے جنرل فلن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم اس تردید کے بعد مائیکل فلن نے حکام کو بتایا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پابندیوں پر بات چیت کی گئی ہو۔پیر کی دوپہر وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائیسر کا کہنا تھا کہ صدر ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔شان سپائیسر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نائب صدر پیسن سے ان کی جنرل فلن کے ساتھ بات چیت کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور دیگر لوگوں سے بھی قومی سلامتی کے بارے میں مشورہ لے رہے ہیں۔جنرل فلن نے ٹرمپ انتظامیہ کو روسی سفیر کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں گمراہ کرنے پر نائب صدر سے معافی بھی مانگی ہے۔